ابنا: اسماعیل کوثری نے آج فارس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ خود مختار قوموں اور ملکوں بالخصوص ایران کو شام کے بحران کے حل کے لئے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنی چاہیں اور علاقے میں سامراجی منصوبوں کا سد باب کرنا چاہیے۔ اسماعیل کوثری نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری کے دورہ لبنان اور شام، نیز شام کے صدر بشاراسد سے ان کی ملاقات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ یہ اقدامات یقینا مثبت ہیں اور شام کے بحران کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اسماعیل کوثری نے کہا کہ علاقے میں مغرب کی پٹھو حکومتوں کے خلاف عوامی تحریکوں سے صہیونی ریاست کی بقا اور مغربی ملکوں کے مفادات کو خطرے لاحق ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مغرب نے علاقے پر اپنا تسلط باقی رکھنے کےلئے صہیونی ریاست کے مخالف ملکوں اور خود مختار حکومتوں کو گرانے کی سازشیں شروع کررکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام کا بحران جاری رہتا ہے تو اس سے نہایت شدید نقصانات پہنچیں گے۔ ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ امیر حسین عبداللھیاں نے کہا ہے کہ ایران نو اگست کو شام کے بارے میں اپنے ہم خیال ملکوں کا اجلاس بلائے گا۔
.......
/169